بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ یہ ایک تحریر کا خلاصہ ہے جس میں خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے جوابی حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نئے بحران کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ ان حملوں میں صرف آبی گذرگاہیں اور تیل بردار جہاز ہی نشانہ نہیں بنتے بلکہ عرب قبائلی ریاستوں کی پانی اور بجلی کی حساس تنصیبات بھی زد میں آ رہی ہیں، کیونکہ وہ ایران پر حملے کے لئے جارح امریکہ کی سہولت کاری سے باز نہیں آ رہی ہیں۔

1۔ نیا محاذ جنگ:
حالیہ حملوں میں کویت کے ایک بڑے پاور پلانٹ اور واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹ کو شدید نقصان پہنچا، جو اس ملک کی پینے کے پانی کی 90 فیصد ضروریات پوری کرتا ہے۔ یہ خلیج فارس کے لئے آبی اور غذائی بحران کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ یہ خطہ دنیا کے خشک ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔
2۔ آبنائے ہرمز کا عملی بندش:
آبنائے ہرمز سے گذرنے والے جہازوں کی تعداد میں 90 فیصد کمی آ گئی ہے، جس سے بیمہ کی شرحیں 6 سے 10 ملین ڈالر فی جہاز تک پہنچ گئی ہیں، جس کا اثر ہر آنے والے سامان کی قیمت پر پڑ رہا ہے۔

3۔ معاشی تباہی کے چار اہم پہلو:
• قیمتوں میں اضافہ:
اشیائے خورد و نوش، ادویات اور صنعتی سامان کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ، جس کا بوجھ متوسط اور کم آمدن والے خاندانوں پر پڑ رہا ہے۔
• سرمایہ کاری کا بحران:
غیر ملکی سرمایہ کار خلیج فارس کے خطے کو غیر محفوظ قرار دے رہے ہیں، جس سے بڑے منصوبے، تعمیرات، سیاحت اور ہوائی صنعت متاثر ہو رہی ہے۔
• آبی اور غذائی سلامتی کو خطرہ:
ڈی سیلینیشن پلانٹس کو نقصان پہنچنے سے زرعی پیداوار کم ہو گی اور خوراک کی درآمدات کا انحصار بڑھے گا، جو اور بھی زیادہ خطرہ پیدا کرتا ہے۔

• تیل کی آمدنی میں کمی:
اگرچہ سعودی عرب اور امارات نے متبادل پائپ لائنوں کا سہارا لیا، مگر مجموعی طور پر تیل کی برآمدات اور حکومتی بجٹ کو نقصان پہنچا ہے، اور خدشہ ہے کہ ممالک کو ذخائر سے اپنا سرمایہ نکالنا پڑ جائے گا۔
4۔ متضاد ردعمل:
خلیج فارس کی عرب ریاستوں نے مالی ذخائر اور متبادل پائپ لائنوں کے ذریعے بحران کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی ہے اور بینکنگ سسٹم مستحکم ہے، مگر بیمہ کا بحران اور جہاز رانی کا جمود معاشی سرگرمیوں کو مفلوج کر رہا ہے۔
5۔ عرب میڈیا کا اعتراف:
عرب اخبارات اور تجزیہ کاروں نے کھل کر تسلیم کیا ہے کہ ایرانی حملے حقیقی اور بھاری نقصان پہنچا رہے ہیں، اور یہ بحران اب صرف فوجی نہیں بلکہ روزمرہ زندگی اور مستقبل کی معیشت کے لئے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔
خلاصہ اور نتیجہ:
خلیج فارس کی جنگ ایک نئے اور زیادہ وسیع مرحلے میں داخل ہوئی ہے، جہاں پانی، بجلی، خوراک، بیمہ، سرمایہ کاری اور عوامی زندگی سب متاثر ہو رہے ہیں۔ عرب شیخوں کی ننھی ننھی ریاستیں اگرچہ مزاحمت کی کوشش کر رہے ہیں، مگر عرب ذرائع ابلاغ اعتراف کرتے ہیں کہ یہ بحران ان کی معیشت اور اقتصاد بنیادوں کو ہلا کر رکھ رہا ہے، اور اس کا حل صرف حقیقی جنگ بندی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تجریر الہام مؤذنی
تلخیص و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ